Blogger Widgets
<مکتوب خادم> السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ.. اللہ تعالی ان تمام افراد کو اپنی مغفرت,رحمت اور سکینہ کا انعام عطا فرمائیں..جنہوں نے اجتماع میں شرکت کی,یا اجتماع میں اپنا مال لگایا,یا اجتماع کے لئے دعا کی..اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام حضرات بندہ کا محبت بھرا شکریہ قبول فرمائیں..اللہ پاک آپ کو اپنی شان عالی مقام کے مطابق اجر عطا فرماۓ.. والسلام خادم.. لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ..Blogger Templates

فتح الجواد

صدائے مجاہد

maktabulameer. Powered by Blogger.

Ads 468x60px

google

خطبات جہاد

بیان سماعت فرمائیں

ذوالحجہ کے مکتوبات

(1)

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی نے ان دس دنوں کو خاص برکت عطا فرمائی ہے..حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ..حضرات صحابہ کرام کے درمیان یہ بات چلتی تھی کہ..ان دس دنوں کا ہر دن ایک ہزار دنوں کے برابر ہے..اور عرفہ یعنی نو ذوالحجہ کا دن دس ہزار دنوں کے برابر ہے..پانچ دن گزر گئے..کمانے والوں نے چند دنوں میں اپنے نامہ اعمال کو صدیوں کی عبادت کے برابر بھاری کر لیا..اور ابھی پانچ دن باقی ہیں نیکیوں میں سبقت کرنے والے بھرپور فائدہ اٹھا لیں..
والسلام
خادم
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ



(2) 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالی ہمارے لئے آخرت کی مشکل منزلیں آسان فرمائے..بھائیو.!بس ایک جھٹکا لگے گا اور ہم قبر میں ہوں گے..کچھ فکر..کچھ محنت..آج کل بڑے اونچے دن چل رہے ہیں ..ان دنوں کے قصے کلام اللہ کا حصہ ہیں ..ایک بیٹے کی اپنے والد کے سامنے فرمانبرداری..یاابت افعل ماتؤمر..اور والد کی اللہ پاک کے ساتھ ایسی وفاداری..کہ خلیل بن گئے..خاص دوست..خاص بندے..شیطان انہیں دنوں انسان کے ہاتھوں ایسا رسوا ہوا کہ..آج تک روتا ہے..بس چند دن بعد چالیس لاکھ افراد تکبیر کے نعرے کے ساتھ..کنکریاں پھینک کر شیطان کو اس کی رسوائی اور ذلت یاد دلائیں گے..وہ انسانوں کو گمراہ کرکے..پھنے خاں ..بنا پھرتا ہے..مگر دس ذوالحجہ کی رسوائی اسے بتاتی ہے کہ..اللہ تعالی کے مخلص بندوں کے سامنے تو کمزور ہے..ذلیل ہے..یہ دن بہت عجیب ہیں .. مٹی کو سونا بنانے والے..خون کو نورانی عمل بنانے والے..بے قدروں کو اونچی قدرومنزلت دلانے والے..منی سارا سال چٹیل میدان..مگر ان دنوں اھل عشق کی قرار گاہ..عرفات سارا سال..ایک بے آباد میدان..مگر ان دنوں وہ اھل جنت کے قافلوں کا میزبان..اور بخشش کا کھلا میدان..ارے بھائیو!ان دنوں تو جانوروں کو وہ مقام ملتا ہے کہ قربانی بن جاتے ہیں ..قربانی..یعنی اللہ تعالی کے قرب کا ذریعہ..یا اللہ!ہمارے جانوروں جیسے نفس کو بھی ان دنوں کی برکت سے پاکی اور اپنا قرب عطا فرما دیجئے..
والسلام 
خادم..
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ





(3)

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ پاک کی بڑائی دل سے اورزبان سے بیان کریں..اللہ اکبر..اللہ اکبر..لاالہ الااللہ واللہ اکبر..اللہ اکبر..وللہ الحمد..بھائیو!آج کل جو عشق محبت والے دس دن چل رہے ہیں ..ان میں بعض صحابہ کرام بازار میں جاکرتکبیرات بلندفرماتے تھے...اللہ اکبر..اللہ اکبر...تاکہ بازار والوں کو بھی یاددہانی ہوجائے کہ آج کل بڑے دن چل رہے ہیں ..اللہ تعالیٰ کی تکبیر اور بڑائی بلند کرنے کے دن ..اللہ اکبرکبیرا..اچھا پہلے کل والاوعدہ پورا کرتے ہیں..پھر جگہ بچی تو اور باتیں ..بخاری شریف کی روایت ہے ..رسول کریم نے ارشاد فرمایاکوئی دن ایسے نہیں جن میں عمل صالح اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا محبوب ہوجتنا ان دس دنوں میں ..عرض کیا یارسول اللہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟..ارشادفرمایا:جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ..مگر یہ کوئی شخص اپنی جان اوراپنا مال لیکر نکلے اورپھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے ..(بخاری)..یعنی شہیدہوجائے..مال بھی لٹادے جان بھی..ایسے شخص کا عمل ان دس دنوں کے نیک عمل سے زیادہ افضل ہوگا..اس حدیث شریف پر غور کریں ..بڑے اہم اسباق ملتے ہیں ..اس عشرے کی عظیم فضیلت ..کہ اس میں کیا ہوا عمل صالح جہاد سے بھی افضل ..اگر مجاہد واپس آجائے ...دوسرابراسبق یہ کہ حضرات صحابہ کرام کا پختہ نظریہ تھا کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے ..اس لئے جب کسی اور عمل کی جزوی افضلیت سنتے توحیران ہوتے اور طالبانہ سوال فرماتے ..تیسراسبق یہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کے معنی بھی اس حدیث شریف سے واضح ہوگئے..وہ جوہرعمل کو جہاد بنا بیٹھتے ہیں غور فرمائیں کہ حضرت آقا مدنی اورحضرات صحابہ کرام کی مجلس میں جہاد کا کونسا معنی مرادہوتا تھا..ارے بھائیو!محبت کاپہلاتقاضا یہ ہے کہ ہم حضرات صحابہ کرام کے نظریہ کو اپنائیں 
والسلام 
خادم 
لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ





(4) 
مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ان مبارک دنوں میں اپنی مقبول عبادت کی توفیق عطافرمائے..آج ایک حدیث مبارکہ پڑھتے ہیں ..اور کل بھی ایک اور حدیث شریف پڑھیں گے........
ارشاد فرمایا:حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ..ان دس دنوں کا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک باقی تمام دنوں کے عمل سے زیادہ بڑااورزیادہ محبوب ہے..پس تم ان دنوں میں تہلیل،تکبیراور
تحمیدکی کثرت کرو..(مسنداحمد)
یعنی ..لاالہ الا اللہ..اللہ اکبر..الحمدللہ...کل صلواۃ التسبیح کاعرض کیا تھا..اس میں ان تمام کی کثرت آجاتی ہے..حضرت سعیدبن جبیررحمۃ اللہ علیہ کا نام آپ نے سنا ہوگا..بڑے جلیل 
القدرتابعی اورامام ہیں وہ ان دس دنوں میں اتنی محنت کرتے کہ بے حال ہوجاتے..یعنی طاقت سے بڑھ کر محنت..وہ کیوں؟..ارے بھائی!جب مؤمن یہ سنتاہے کہ ان دنوں میں 
میراعمل کرنامیرے مالک کوبہت محبوب ہے تواس پر وجدطاری ہوجاتاہے کہ ..مجھ غلام کاعمل میرے رب کو محبوب؟..بس پھر وہ ایک لمحہ ضائع نہیں کرناچاہتا..اس لئے توایمان والے ان 
دنوں پورے نو9روزے رکھتے ہیں..تاکہ سارادن عبادت میں گزرے..آپ جانتے ہیں روزہ کاہرلمحہ عبادت ہے..
مھم میں مشغول ساتھی روزہ نہ رکھ سکیں توتکبیر،تہلیل،تحمید،تسبیح خوب پڑھیں
ہزاروں بارذوق شوق ،جوش اور محبت سے ..اللہ اکبر کبیرا
والسلام 
خادم 
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ






(5) 

<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ..
اللہ تعالی کا عظیم احسان..عشرہ ذوالحجہ..شروع ہوگیا..ان ایام میں ہر عبادت کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے..عام دنوں کے اعمال اور ان دنوں کے اعمال کی قیمت کا فرق..پاکستانی روپے اور کویتی دینار کے فرق سے بھی زیادہ ہے..بہت زیادہ..پھر غفلت کیوں؟..سستی کیوں؟..ان دنوں میں سب سے اہم عمل حج ہے..پھر عمرہ..ہم جو حج عمرہ پر نہیں جاسکے..ہمیں چاہیے حجاج کے لئے دعائیں مانگیں..تب ہم ان کے عمل اور اجر میں شریک ہوجائیں گے..یہ دعا کا کمال ہے..غیبت کرو تو دوسروں کے گناہ اپنے سر..اور دعا کرو تو دوسروں کی نیکیوں میں شرکت..پھر بڑا عمل قربانی کا ہے..اس سال دل کھول کر عشق و محبت کے ساتھ قربانی کریں..جو ان دنوں روزہ رکھیں وہ مبارک کے مستحق..اور سنیں ان دنوں یا راتوں میں کوشش کرکے صلواۃ التسبیح پڑھ لیں..ان شاء اللہ بڑا خزانہ مل جاۓ گا..کئی اھل علم صلواۃ التسبیح کے قائل نہیں..ان کا مکمل احترام..مگر مجاہدین کے بڑے شیخ..حضرت امام عبداللہ بن مبارک اس نماز کے قائل ہیں..
والسلام
خادم..
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ






(6)

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ مہینے کے پہلے عشرے کوبے حد فضیلت بخشی ہے ...مبارک ہوآج مغرب سے یہ مبارک عشرہ شروع ہورہا ہے..
عرب ممالک اور افغانستان میں آج ذوالحجہ کی پہلی تاریخ ہے ..ہمارے ہاں آج چاند دیکھا جائے گا...
اس عشرے کی فضیلت قرآن پاک اور احادیث صحیحہ میں آئی ہے..یہ عشرہ فضائل میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کے ہم پلہ یا قریب ہے..
لیکن مسلمان اس سے غافل ہیں ..وجہ یہ کہ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے..جبکہ آج کل وہ آزاد ہے...
دوسری طرف چھٹی اور تعطیلات کا رواج بھی اس موسم کو کمانے نہیں دیتا..بھائیواور بہنو!متوجہ ہوجاؤ.
.آج ذوالحجہ کا شاندار استقبال پاک روح ،پاک جسم اور پاک جگہ پر جن کی قربانی ہے وہ مغرب سے پہلے ناخن اور زائد بال کاٹ لیں ..
چاند رات کے ،معمولات کا اہتمام اور پھرعبادت اور نیکی میں مقابلہ بھرپور محنت ،جھوٹ ،غیبت بند،بدنظری ،بدکلامی بند،حرام ،مکروہ بند،اور دل میں ہر وقت خشوع .
ارے یہ وہ دن ہیں جن میں حج اکبر ادا ہوتا ہے ..جن میں قربانی کی بہار آتی ہے کیا کوئی اور دن ایسے ہیں؟؟؟
آج سے ہر گناہ سے سچی توبہ اورہرنیکی کا عزم زندگی رہی تو ان شاء اللہ ان دس دنوں میں مکتوب خادم حاضر رہے گا...
اپنی اور آپ کی تذکیر اور یاددہانی کے لئے ...پہلا سبق خود کو اور آپ کو یہ کہ دو رکعت صلواۃ التوبہ تمام گناہوں کی معافی کے لئے التجا..
.اور دو رکعت صلواۃ الحاجت کہ یہ عشرہ اللہ پاک کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق ملے بندہ کو بھی اپنی دعا میں یاد رکھیں 
والسلام 
خادم 
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ








(7) 
<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ..

اللہ اکبر کبیرا..آپ سب کو..تمام اسیران اسلام کو..تمام مجاہدین و مہاجرین فی سبیل اللہ کو دل کی گہرائیوں سے..عید مبارک..تقبل اللہ مناومنکم..روایت میں ہے کہ حضرات صحابہ کرام ان الفاظ سے ایک دوسرے کو عیدکی مبارک باد دیتے تھے..تقبل اللہ مناومنکم..شکر الحمدللہ دس روزہ مکتوبات کا سلسلہ مکمل ہوا..عید کی خوشیاں اس طرح منائیں کہ اللہ پاک خوش ہوجائیں..
والسلام 
خادم..
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ






(8) 
<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ.. 
اللہ پاک کی رضا کے لئے دل کے شوق اور جوش سے پڑھیں..اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد..آج جب آپ کو یہ مکتوب ملے تو تھوڑی دیر اپنے محبوب رب کی..محبت اور عظمت میں ڈوب کر یہ تکبیر بلند کریں..بھائیو!شرمائیں نہ یہ تو عزت اور سعادت کا کام ہے..لوگ گانا گاتے نہیں شرماتے..ہم اپنے مولا کی عظمت اور تکبیر بلند کرنے سے شرمائیں؟..توبہ..توبہ..یہ شرم نہیں بے شرمی ہے..اور ایمان کی کمزوری..آج کل تکبیر کے دن ہیں..حضرت عمررضی اللہ عنہ منی میں اپنے قبے سے تکبیر کہتے تو آواز اتنی بلند کہ مسجد تک جاتی..تب باقی لوگ اس میں شریک ہوجاتے..اور زمین تکبیر سے گونج اٹھتی..نمازوں کے بعد تو تکبیر کہنی ہی ہے ویسے بھی ان دنوں..خوب تکبیر کہیں..راستوں میں,بازاروں میں اور اپنے گھر اور بستر پر..ہمارا مرض ہی یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں اللہ پاک کی عظمت اور بڑائی ویسے نہیں جیسے ہونی چاہیے..ہمارے دلوں میں"دنیا"اور "غیراللہ" کی عظمت داخل ہوچکی ہے..یہ بڑا مہلک مرض ہے..یہ دن اور یہ تکبیر اس مرض کا علاج ہے..اتنی کہیں کہ بے حال ہوجائیں اور یہ تکبیر دل کی شریانوں میں گھس جاۓ..اللہ اکبر اللہ اکبر..بھائیو!کل عید کا دن ہے..اس دن کے کئی نام آۓ ہیں..یوم الاضحی..یوم الضیافۃ..یوم النحر..یوم الحج الاکبر..یوم العیدوغیرہ..کئی اھل علم کے نزدیک یہ دن سال کے تمام دنوں میں افضل ہے..کل قربانی کے عمل کو عاشقانہ بنانے کے لئے..ایک نظر بندہ کے رسالے"تحفہ ذی الحجہ"پر ڈال لیں..عید الاضحی کے دن کچھ چیزیں سنت ہیں..ان سب پر عمل کریں..1..غسل,2.مسواک,3.حسب طاقت عمدہ کپڑے,4.شریعت کے مطابق اپنی آرائش,5.خوشبو,6.صبح جلد اٹھنا,7.عید گاہ جلد جانا,8.کھانے کا آغاز قربانی کے گوشت سے,9.ایک راستہ سے عید گاہ جانا دوسرے راستہ سے واپس آنا,10.عید گاہ پیدل جانا,11.عید گاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر کہتے جانا...اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد..
والسلام 
خادم..
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ







(9) 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ.. 
اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو جہنم کی آگ سے ہمیشہ بچاۓ..ہمارے ہاں کل"یوم عرفہ"ہے..اس دن کے فضائل قرآن اور سنت میں وارد ہوئے ہیں..اھل علم نے اس بابرکت اور عظیم دن کے تیرہ خاص فضائل لکھے ہیں..جن میں یہ بھی ہے کہ یہ جہنم سے آزادی پانے کا دن ہے..اس دن کی دعا میں اللہ پاک نے بڑی خیر رکھی ہے..یہ وہ دن ہے جس میں دین مکمل ہوا اور نعمت پوری ہوئی..الیوم اکملت لکم دینکم..بھائیو!کیا معلوم آئندہ ہمیں یہ دن نصیب ہو یا نہ..اس لئے غنیمت سمجھ کر..اس دن کو کمانے کی کوشش کریں..رات کو تہجد..کچھ نوافل و دعا..پھر سحری کھائیں..اذان ہوتے ہی مسجد..تمام نمازیں تکبیر اولی کے ساتھ..فجر کے بعدمسجد میں اپنی جگہ بیٹھے رہیں..اشراق تک..پھر دو یا چار رکعت..اس کا اجر حج اور عمرہ کے برابر ہے..اور بعض روایات میں اس کا اجر..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج عمرہ ادا کرنے جیسا ہے..دوپہر کو ظہر کا وقت داخل ہوتے ہی..صلواۃ التسبیح..سارا دن ذکر,تکبیر,تلاوت,صدقہ,روزہ اور دینی کام میں گزر جاۓ..اور شام کو افطار کے وقت..گرم آنسو اور دعا..کل فجر سے ہر نماز کے بعد تکبیرات بھی شروع..تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک..یہ واجب عمل ہے..گھر میں نماز کی جگہ لکھ کر لٹکا دیں تاکہ خواتین کو یاددھانی رہے..اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ..واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد..






(10)
 مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ..
اللہ تعالی سب حجاج کا حج قبول فرمائے..اور اس سال کے حج کی برکات تمام مجاہدین کو ان کے محاذوں پر عطا فرمائے..کل حج کا دن ہے..نو ذوالحجہ عرفہ کا دن..کل لاکھوں مسلمان عرفات کے میدان میں حج کا رکن اعظم ادا کریں گے..یعنی.. وقوف عرفہ..سبحان اللہ کیسا عجیب منظر ہوگا..یہ وہ دن ہے جس میں جہنم سے نجات کے پروانے سب سے زیادہ عطا ہوتے ہیں..صحیح مسلم کی روایت ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ..گزشتہ ایک سال اور اگلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے..وہ افرادجو اب تک کے روزے نہیں رکھ سکے..اگلے دو دن ہمت کریں..بارہ گھنٹے کی معمولی سی بھوک پیاس..اس دن بہت کام آۓ گی جو دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا..ہمارے ہاںکل آٹھ اورپرسوں
نو تاریخ ہے..بھائیو!ان دس دنوںکے فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ امت کے خاص لوگ..ان دس ایام کے لئے اپنی زندگی کا الگ نظام الاوقات لکھ لیتے..اور کوشش کرتے کہ ان دنوں میں کوئی نیکی ان سے نہ چھوٹے..اور کوئی گناہ ان سے سرزد نہ ہو..مہم میں شریک ساتھیوںکومبارک..کہ جماعت کی برکت سے ان کے یہ دن..عظیم دینی محنت..میںگزرتے ہیں..بس نیت کااخلاص تازہ کرتے رہیں..چلتے پھرتے..تکبیر,تحمید,ت­ھلیل..اورتسبیح کی کثرت کریں..اپنی مجالس میںغیبت کوحرام سمجھیں..جب اکٹھے ہوں دین کی بات کریں..اس طرح آپ ان عظیم اورمبارک دنوں کو اور لوگوں سے زیادہ کما لیں گے..کیونکہ..آپ فریضہ جہادکی عالیشان محنت میں ہیں..جس کامقام بہت بڑا ہے..جی ہاں بہت اونچا.
والسلام
خادم..

لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ



(11) 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ.. 
اللہ تعالی کو اخلاص والی"قربانی"پسند ہے..گوشت کھانے..رانیں اڑانے کڑاھیاں چڑھانے کی نیت نہ ہو..یہ سب کچھ ویسے ہی مل جاتا ہے..ایک بندہ تیار ہوگیا کہ ٹھیک ہے..میں اللہ پاک کی رضا کے لئے ذبح ہوتا ہوں..قربان ہوتا ہوں..اور ایک بندہ تیار ہوگیا کہ میں اللہ پاک کے لئے اپنا کلیجہ..اپنا لخت جگر ذبح کرتا ہوں..باپ نے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی..اور یوں..قربانی..کی سنت قائم ہوگئی..
بھائیو!قربانی بڑا عاشقانہ عمل ہے..اس عمل کی برکات بے شمار ہیں..اور اس کے فضائل بہت اونچے ہیں..قربانی رحمت بھی ہے اور مغفرت بھی..ہر مسلمان دل کی خوشی سے جیب کھول کر قربانی کرے..اورجن کے پاس پیسے نہیں وہ ڈبل خوشی منائیں..اور جھوم جھوم کر درود شریف پڑھیں کہ ان کی قربانی..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی ادا فرما دی ہے..صلی اللہ علیہ وسلم..صلی اللہ علیہ وسلم..
والسلام 
خادم..
لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ



اعلان

ان شاء اللہ طلبہ کا پسندیدہ رسالہ(المرابطون)بہت جلدسائٹ پر 
آرہا ہے
▬▬▬▬๑۩۩๑▬▬▬▬▬● ●▬▬▬▬๑۩۩๑▬▬▬▬▬

عربی ترانے

آمدو رفت کے اعداد و شمار

ہفت روزہ القلم

ماہنامہ بنات عئشہ

ماہنامہ مسلمان بچے